|
اداریہ
|
|
تحریر اوصاف سعید
|
|
Thursday, 28 February 2008 |
 |
 |
| |
Welcome to
this website on Urdu Literature, which is dedicated to Late Awaz
Sayeed, the renowned short-story writer, Khaka-Navees and
playwright from Hyderabad, India.
Awaz Sayeed was
known for his unique, innovative and inimitable style of short story writing.
The use of symbolism and dialogue was the mainstay of his short stories. He
handled varying subjects, but concentrated on exploring the inner self and the
human pulse in a very touching manner. He is counted among the few modern Urdu
writers of the Indian sub-continent who gave a new meaning to Urdu
short-stories.
The site exposes you to the unique and very individualistic form
of expression used by him.
There are also lots of links to several Urdu sites, Urdu
newspapers and magazines.
Happy Surfing! <Go to
classic website>
اردو ہے جس کا
نام ہم جانتے ہے داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے۔ |
|
|
ڈاکٹرعالم خوند میری کی راے |
|
آرا
|
|
تحریر اوصاف سعید
|
|
Thursday, 28 February 2008 |
عوض سعید ان اردو افسانہ نگاروں مین سے ہیں جنہوں
نے اردو میں مختصر کھانی کی سطح کو بلند کیا ۔ وہ زبان پر قادر ہی نہیں
بلکہ زبان کو انتھائی تخلیقی انداز میں برتنے کی نایاب صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان کے پاس اشاریت کا استعمال عصری انداز کا ایک ایسا اظہار ہے جو انھی کے
لئے مخصوص
ہے۔
۔۔ ڈاکٹرعالم خوند میری
|
|
|
آرا
|
|
تحریر اوصاف سعید
|
|
Monday, 10 March 2008 |
|
عوض سعيد كي نئي كهانياں كئي اعتبار سے ان كي پچھلي كهانيوں سے مختلف هيں نفس انساني كي انوكھي اور سربسته كيفيات اس كے تجربوں اور موجوده عهد ميں انساني زيست كي بے ڈھب صورت حال كو انھوں نے بعض كهانيوں ميں بڑي فن كاري اور خوب صورتي سے پيش كيا هے۔
۔۔ ڈاكٹر مغني تبسم
|
|
|
پروفيسر گوپي چند نارنگ کی راے |
|
آرا
|
|
تحریر اوصاف سعید
|
|
Thursday, 28 February 2008 |
|
عوض سعيد كے خاكے ايك صاحبِ طرز اور منفرد اديب كي معنوي صلاحيتوں اور خوبيوں كا مرقع هيں۔ ان خاكوں كي ادبي قدر و قيمت هے اور يہ كتاب توجہ كي
دعوت ديتي هے۔ عوض سعيد نے ان خاكوں ميں شخصيت كي گرهوں كو شگفتہ مزاجي كے اسلوب كي راه سے كھولنے كي هنرمندانہ سعيئ مشكور انجام دي هے۔ عوض سعيد كو
زبان اور طرزِ بيان پر قدرت حاصل هے جب هي توان كے خاكوں ميں تخلليقي خوبياں نظر آتي هيں۔
۔۔۔ پروفيسر گوپي چند نارنگ
|
|
|
آرا
|
|
تحریر اوصاف سعید
|
|
Thursday, 28 February 2008 |
عوض سعید کو کھانی بننے کا ایک جاص طریقہ ہے اور قدرت نے
اسے کھانی بیان کرنے کا ملکہ بھی عطا کر رکھا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نہ
صرف اس کی کھانی میں جھول نمودار نھیں ہوتا بلکہ وہ مکالموں کی بے ساختگی
مشاھدے کی گہرائی اور زباں وبیان
پر عبور کے باعث قاری کی توجہ ادھرادھر بھٹکنے نہیں دیتا۔
۔۔ ڈاکٹر وزیر آغا
|
|
|
خبریں
|
|
تحریر Siraj Wahab
|
|
Tuesday, 11 March 2008 |
| Siraj Wahab |
Arab News |
| |
|
The late Awaz Sayeed made a
name for himself in Urdu literature as a writer of short stories.
Jeddah’s Urdu Academy recently published his book, entitled “Khaakey,”
which consists of sketches of 18 well-known Urdu writers.
"Khaakey” reflects the author’s
great command of language as well as his humor which holds the reader’s
interest. He keeps the narrative engaging and gripping. The very first
sketch is of the towering Urdu figure, Makhdoom Mohiuddin. He was no
less a poet than the legendary Faiz Ahmed Faiz. Or so say the critics.
In a fascinating manner, Sayeed
describes how Faiz and Makhdoom both regaled large gatherings of
audiences in a “mushaira”. And how Makhdoom was pestered with the demand
for his famous poems “Charagar” (the popular film song “Ek Chambeli Ke
Mandwe Talay”), “Chand Taron Ka Bun” and “Intezar”. But Sayeed writes
that his “Woh” used to carry the day or rather night. For, while he was
declaiming “Woh” people would look mischievously at the window where
some beauties would sit and enjoy Makhdoom’s poetry.
Sayeed’s appreciation of
Makhdoom was no one-way traffic; Makhdoom also acclaimed Sayeed’s
mastery as a short story writer. It is through Sayeed’s sketch that we
learn for the first time that Makhdoom was of Arab descent. His full
name was Abu Sayeed Muhammad Makhdoom Mohiuddin Hadari.
<Read
More>
|
|
|
|
خاکے
|
|
تحریر اوصاف سعید
|
|
Tuesday, 11 March 2008 |
|
مجھے ياد نهيں كہ ميري مغني سے پهلي ملاقات كب اور كهاں هوي تھي هاں یہہ احساس ضرور هے كہ ميں انهيں آج بھي رگِ جاں كے قريب پاتا هوں۔ اس قرب كے باوجود اگر ميں يه كهوں كه مغني كي شخصيت كي نقاب كشائي كا اهل ميں هي هوں تو يہ ميري خوش فهمي هوگي كيونكہ مغني كي شخصيت كي گهرائي تك پهنچنا كم از كم ميرے بس كي بات نهيں۔ اس ليے مغني كي شخصيت كا تجزيہ كرنا ميرے ليے واقعي مشكل كام هے۔ مشكل ان معني ميں كہ وه ٢٢ + =٢٢= ٤٤ والي شخصيت نهيں بلكہ +٢٢+ =٢٢= ٥٥ والي شخصيت هے ۔
ممكن هے قدير الزماں مغني كي تهه دار شخصيت كے اس چيلنج كو قبول كرليں۔ ويسے كسي بھي چيلنج كو قبول كرنا اور پھر حواس باخته هوجانا قدير زماں كے ليے معمولي سي بات هے۔ يه تو جمله معترضه تھا مجھے تو يهاں مغني تبسّم كي شخصيت كے بارے ميں كچھ كهنا هے۔
مغني سے جب صرف جان پهچان تھي تو ان كا بيشتر وقت ٫٫پارٹي٬٬ كے كاموں ميں گزرتا تھا۔ ايك طرف والدِ بزرگ وار حاجي۔ دوسري طرف فرزندِ ارجمند كا مريڈ اور ٥٠٠ يا ٥٢٢ كا سنه ۔ عجيب زمانہ تھا وه بھي ۔
پھر جب آگے بڑھے تو پيچھے مڑكر يه بھي نہ ديكھا كہ صبح كا انتظار كرنے والے ساتھيوں پر رات كيسے گزرتي هے۔
مغني كي شخصيت كا ايك جُزان كي اپني ٫٫نرگيسيت٬٬ بھي هے اور وه اس آئينے كو بڑي مضبوطي سے تھامے رهتے هيں جس ميں ان كے چهرے كا عكس مٹتا اور اُبھرتا رهتا هے۔ وه باهر نكلنے سے پهلے اپنے آپ كو سنوار نے ميں كافي وقت صرف كرتے هيں وه اس وقت تك آئينے كے سامنے سے نهيں هٹتے جب تك كہ ان كا كوئي ساتھي انتطار سے تنگ آكر يہ نہ كهے۔
٫٫مغني صاحب اگر آپ مصروف هوں تو ميں پھر كبھي آجاو ںگا۔٬٬
جواباً وه صرف يهي كهتے۔ ٫٫معاف كيجيئے گا كچھ دير هوگئي ميں آرها هوں۔٬٬
ادبي اور علمي بحثوں ميں اچانك كوئي چونكانے والي بات كهه كر اپنے ساتھيوں كو بحث ميں الجھادينا اور پھر دور كھڑے هوكر تماشه ديكھنا مغني كا وصف خاص هے۔ ايسے موقعوں پر انهيں اس شرارت سے كوئي بھي باز نهيں ركھ سكتا۔ ويسے مغني فطرتاً ايك شريف اور وضع دار آدمي بھي هيں۔ باهر سے آنے والے ساتھيوں كا خير مقدم كرنا، اور انهيں ايرپورٹ يا اسٹيشن تك پهنچا كر خدا حافظ كهنا مغني كے معمولات ميں سے ايك هے۔
مغني سے سوبار مل كر بھي يهي احساس هوتا هے۔
اصغر سے ملے ليكن اصغر كو نهيں جانا۔
مغني كي شخصيت اس بند كمرے كي مانند هے جس پر تالا پڑا هوا هے اور چابي كسي اور كے پاس نهيں خود ان هي كي جيب ميں هے اس ليے يهاں جو بھي باتيں ميں ان كے بارے ميں كهوں گا ضروري نهين كه آپ بھي اس سے متفق هوں۔
انور معظم كي طرح مغني بھي اپنے دوستوں كے گھر شاذهي جاتے هيں۔ اكثر صورتوں ميں تو ان كے ساتھيوں هي كو ان كے گھر كا طواف كرنا پڑتا هے۔
ايك دفع وه صبح هي صبح ميرے گھر آئے دروازے كو كھٹكھٹانے كے بعد اوصاف كو آوازدي ﴿اوصاف ميرے بچے كانام هے﴾
ميں نے فاطمه سے كها۔ يہ مغني كي آواز معلوم هورهي هے ضرور كوئي مرا هوگا۔
فاطمہ نے ناگواري سے ميري طرف ديكھا اور كها۔ ٫٫چپ بھي هوجائيے بھائي اگر سُن ليں گے تو كيا كهيں گے۔٬٬
پھر مغني نے اندر آكر جب چُپ كي چادر ادڑھ لي تو ميں سمجھ گيا كه كوئي خاس بات ضرور هے۔ پھر وهي بات انهوں نے كهي جو ميرے دل ميں تھي۔ اپنے ايك عزت كي موت۔
حلقه احباب ذوق اور ميراجي مغني كي سب سے بڑي كمزوري هے اور ان كي يهي كمزوري انهيں ادب كے بعض مخصوص حلقوں ميں معتوب بھي كرتي هے۔ اس كے باوصف ميراجي اور راشد كے ادبي سرمايہ كي شيرازه بندي ميں وه برسوں سے جٹے هوے هيں۔ اس كٹھن مهم ميں انھوں نے اپنے دو ايك شاگردوں كو بھي شامل كرليا هے۔
مغني كے ورغلانے هي پر ايك نے اپنے تھيسيس كے ليے راشد كا انتخاب كيا هے دوسرے نے ان كے زير اثر ميراجي كا۔
مغني نے احتياط كو ملحوظ ركھتے هوے اپنے دونوں شاگردوں پر كڑي نظر ركھي هے كه كهيں وه هتّھے سے نہ نكل جائيں۔ چنانچہ ان كے پهلے شاگردنے اس بھاري پتّھر كو چومنے سے پهتر يهي سمجھا كه چند برس كے ليے كهيں فرار هوجائيں اور اس طرح ايك دن وه لاپته هوگئے سنا هے كہ انھوں نے اپني نجات كا راسته رحمت آباد كي درگاه ميں ڈھونڈليا هے۔ كوئي عجب نهيں كه وه وهاں يه دعا بھي كرتے رهے هوں كہ معبود مجھے مغني اور راشد سے بچائے ركھ۔
دوسرے شاگرد كے بارے ميں ايك اطلاع مجھے يه ملي كه وه ميراجي كي بھٹكي هوي روح كے تعاقب ميں دور نكل پڑے هيں۔ اور هنوز انھيں لو هے كے ان تين گولوں كے حصول ميں كاميابي نصيب نهيں هوي هے جو ميراجي كے هاتھ ميں گھوما كرتے تھے۔
|
|
مزید پڑھیں۔۔۔
|
|
|
خاکے
|
|
تحریر اوصاف سعید
|
|
Sunday, 09 March 2008 |
|
عالم صاحب كي شخصيت كے هر بُنِ مُو كا احاطہ وهي شخص زياده بهتر طور
پر كرسكتاهے جو اُن كا هم پيالہ اور هم نواله رهاهو۔ يوں كهنے كو تو هم پيالہ هم بھي
رهے هيں اور هم نوالی هونے كے باب ميں كوئي بات قطعيت كے ساتھ اس ليے نهيں كهي جاسكتي
كه عالم صاحب نے ايسا موقع كبھي آنے هي نی ديا۔
ان كي شخصيت
كچھ اتني دل چسپ اور
Controversial رهي هے كہ پتہ نهيں چلتا كہ وه كهاں سے شروع
هوتے اور كهاں جاكر ختم هوتے هيں۔
ان كي شخصيت
كا آغاز كبھي انجام سے شروع هوتا هے اور كبھي انجام هي آغاز بن جاتا هے۔ دراصل شخصيت
كے اسي خالي خانے ميں بيٹھ كر وه زندگي اور كائنات كا مطالعه كرتے هيں۔
عالم صاحب دوستي
كے باب ميں بڑے فراخ دل واقع هوے هيں۔ ايك چار سالہ بچه بھي ان كا دوست هے اور ايك
اسي سالہ بوڑھا بھي۔
بوڑھے پر مجھے
ايك بات ياد آئي۔ ايك دن عالم صاحب سے مجھے ملنا ضروري تھا۔ اپائنٹمنٹ كے ليے جب ميں
نے فون كيا تو اُن كا فون خراب تھا۔ مايوسي كے عالم ميں جب ميں ان كے گھر كے قريب پهنچا
تو ميں نے ديكھا كه ايك بوڑھا آدمي ان كے گھر كے سامنے ايك چبوترے پر بيٹھا رورها هے۔
٫٫ميں نے سوچا۔ كوئي خاص بات ضرور هے۔٬٬
٫٫كيا بات هے حضرت آپ رو كيوں رهے هيں۔٬٬
٫٫عالم صاحب مجھ سے ملنا نهيں چاهتے۔٬٬
٫٫نہ ملنے كي كوئي وجه۔؟٬٬
٫٫ميں نے اقبال كي نظم ٫٫مسجد قرطبه٬٬ نهيں
پڑھي هے۔ ان كا خيال هے كہ جس آدمي نے ٫٫مسجد قرطبه٬٬ نہ پڑھي هو اس سے ملنا نهيں چاهيے۔٬٬
٫٫تو پھر پڑھ ليجئے٬٬
٫٫وه تو پڑھ ليتا ليكن اس كے ساتھ اُنھوں
نے ايك شرط بھي ركھي هے كہ ميں سار تر ٫كامو٬ ايليٹ٬ كافكا اور جان دين كو بھي پڑھوں۔
يہ كهه كر وه
آدمي زاروقطار رونے لگا۔ ميں نے همّت بندھائي اور مشوره ديا كہ عالم صاحب سے ملنے كا
خيال اب چھوڑ ديجيے اور مغني تبسّم سے ملئے۔
|
|
مزید پڑھیں۔۔۔
|
|
|
|
<< آغاز < پچھلا 1 2 اگلا > اختتام >>
|
| نتائج 1 - 16 از 18 |